Translate

DTA Computer traning center

گھر بیٹھے کمائے
بغیر کسی رقم کے
صرف ایک ڈپلوما وہ بھی بغیر کسی فیس کے



Online Keyboard & Mouse sale in pakistan

Lenovo kayboard in just Rs. 260/-
Condition   :   used
Free home dilivery
Type   :    USB
30 Days waranty


خرید نے کے لیے کال یا SMS
0336-8812498
E MAIL :  fghulam347@gmail.com

Moise

Condition   :   used
Free home dilivery
Type   :    USB
30 Days waranty
price : Rs.240/-



Farid computer academy

Farid computer academy

اب گھر بیٹھے 40000روپے کمائے
صرف 3 ماہ کے کورس کے  دوران
اب مفت کمپیوٹر کورس کرے

Admissions upon  27 Dec 2017 to 15 january 2018
کورس کی کامیابی پر 10000روپے طالبعلم کو بطور وظیفہ دیے جاے گے
کچھ سوچے نہ رابطہ کرے۔
مزید رہنمائی کے لیے farid computer academy information
contact no. 0336 8812498
E mail : fghulam347@gmail.com

Farid computer academy earning full course

Farid computer academy for boy's
Mari academy main online earning course/diploma kraea jata hai.
OEZI computer diploma
Diploma only 3 months
monthly fee: Rs.00.00
Administration fee:Rs.200/- only
Other charges: Rs.00.00/-

Note:

Hamari Academy main course ke bad app apne home per hi earn ker ske ge.
Contact No.   0336-9725630
E Mail : fghulam347@gmail.com
Website : www.islamicwaqiat.ga
Address : Farid computer academy Bhair Ratial Nazd Daultala Gujar khan


صلی اللہ علیہ واله وسلمHadees in Urdu

Hadees in Urdu

















حضرت امام شافعی کا مختصر تعارف


آپ کا نام ابو عبد comہ محمد بن ادریس ہے آپ قریشی ہیں حضور علیہ الصلواۃ والسلام کے جد اعلٰی عبد مناف سے آپ کا نسب جا کر ملتا ہے ۔
آپ کی ابتدائی عمر علم و ادب تاریخ میں گزری ، آپ کی ولادت 150ھ میں ہوئی ۔
آپ کی فہم وذکاوت اور حسن استعداد کو دیکھ کر مسلم بن خالد زیخی نے آپ کو فقہ کی ترغیب دی ، آپ 13 سال کی عمر میں امام مالک علیہ الرحمۃ کے ہاں پہنچے تو اس وقت ان کی مؤطا حفظ کر چکے تھے ۔
آپ ایک دفعہ ہارون رشید ( خلیفہ ) پر طعن کرنے کے الزام میں گرفتار ہو کر آئے ، دربار میں امام محمد علیہ الرحمۃ موجود تھے اس الزام میں دو شخصوں کے سوا تمام لوگ قتل کر دئیے گئے ایک علوی دوسرے امام شافعی علیہ الرحمۃ ،علوی پر بھی الزام ثابت ہوگیا تو وہ بھی قتل کر دئیے گئے ، امام شافعی علیہ الرحمہ نے اپنی برآت بیان کی تو امام محمد علیہ الرحمۃ نے ان کی تصدیق فرمائی ، ہارون رشید نے امام محمد علیہ الرحمۃ کی تصدیق پر امام شافعی کو آزاد کردیا ، اس طرح وہ قتل سے بچ گئے گویا یہ امام محمد علیہ الرحمہ کا امام شافعی علیہ الرحمۃ پر بڑا احسان ہے نہ صرف ان پر بلکہ تمام شوافع پر تاقیامت کہ ان کی جان بچائی ، ( انوار الباری ج1،ص35)
نوٹ !
یہ امام محمد حضرت امام ابو حنیفہ کے شاگرد مشہور ہیں اور نہ صرف یہ بلکہ امام شافعی امام محمد کے شاگرد بھی ہیں اور کافی مدت تک ان کے ز یر سایہ بھی رہے ۔
آپ اپنے ابتدائی علم کے حالات بتاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ ابتداء زمانہ میں یہ حال تھا کہ استاد کو اجرت دینے کے لئے کچھ نہ تھا چنانچہ اس شرط پر کہ میں ان کے جانے کے بعد باقی شاگردوں کو دیکھا کروں گا علم حاصل کرنا شروع کیا قرآن پڑھنے کے بعد علم حدیث کے حلقوں میں بیٹھنا شروع کیا اور جو حدیث سنتا یاد ہو جاتی اس وقت میں کاغذ بھی نہیں خرید سکتا تھا اور چکنی ہڈیاں ڈھونڈتا اگر مل جاتیں تو ان پر لکھ کر انھیں گھر کے پرانے گھڑے میں احتیاط سے رکھ لیتا ۔
کسی نے حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میری بیوی کے پاس ایک کھجور تھی میں نے اس کو کہہ دیا کہ اگر کھجور کھائے تو بھی طلاق اور اگر نہ کھائے تو بھی طلاق ، بتائیں اب میں کیا کروں ؟
حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ فکر کی کوئی بات نہیں آدھی کھجور کھالے اور آدھی پھینک دے ۔
آپ کی وفات بعمر 54سال 204ھ میں ہوئی بعد وفات امام شافعی کو ربیع بن مرادی نے خواب میں دیکھا تو پوچھا اللہ تعالٰی نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا فرمایا ، مجھے ایک سنہری کرسی پر بٹھا کر میرے اوپر تازہ تازہ موتیوں کی لڑی بکھیری ۔( انوار الباری جلد 1 ص142http://www.itdunya.com

حضرت امام ابو حنیفہ ؒ


مسلمانوں میں کون ہو گا جسنے حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کا نام نہ سنا ہو۔وہ آٹھویں صدی عیسوی میں اتنے بڑے عالم گزرے ہیں کہ کروڑوں مسلمان ان کو دین کے علم میں واقفیت کے لحاظ سے بڑا امام )امامِ اعظم(مانتے ہیں ۔حضر ت امام ابو حنیفہؒ بے حد عبادت گزار اور پرہیزگار تھے اور کاروباری لین دین میں اس قدر احتیاط کرتے تھے کہ ان کی آمدنی میں کوئی ایسی رقم شامل نہ ہوجائے جس کے نا جائز یا حرام ہونے میں ذرا سا بھی شبہ ہو ۔ایک دفعہ امام صاحب ؒ نے اپنی دکان کے ملازم سے کپڑے کے ایک تھان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :”بھائی دیکھو یہ تھانایک جگہ سے مسکا ہوا ہے ۔)یعنی قدرے پھٹا ہوا ہے(اگر میری غیر حاضری میں اسکا کوئی خریدار آجائے تو اس کو اس تھان کا یہ عیببتا دینا۔اگر وہ یہ عیب جانتے ہوئے بھی اسے خریدنا چاہے تو اس سے اس کی نصف )آدھی (قیمت لینا۔“اتفاق سے امام صاحبؒ کی غیرحاضری میں اس ناقص تھانکا ایک خریدار آگیا ۔دوسرے خریداروں کے ہجوم اور مصروفیت کی وجہ سے ملازم اس خریدار کو تھان کا عیب بتانا بھول گیا اور پوری قیمت لے کر تھان اس کےہاتھ بیچ دیا۔شام کو امام صاحبؒ دکان پر تشریف لائے تو اس ملازم سے پوچھا کہ وہ عیب والا تھان بک گیا ہے یا نہیں؟ملازم نے بڑی شرمندگی کےساتھ عرض کیا:”جناب تھان بک تو گیا ہےلیکن افسوس کہ میں خریدار کو اس کا عیب بتانا بھول گیا اور اس سے تھان کی پوری قیمت وصول کر لی۔“ یعنی اس قسم کے بے عیب تھا ن کی جو قیمت ہوتی ہے ،عیب والے تھان کو اسیقیمت پر فروخت کردیا ۔امام صاحب کو یہ سن کر بہت دکھ ہوا اور دوسرے دن صبح سویرے وہ اس خریدار کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ملازم سے خریدار کی شکل و صورت لباس وغیرہ کے بارے میں پوچھ لیا تھا تاکہ اسے پہچان سکیں۔وہ جس طرف گیا تھا اس طرف گئے تو کسی نے بتایا کہ وہ شخص حجاز جانے والے ایک قافلے میں شامل ہو کر یہاں سے روانہ ہو گیا ہے ۔امام صاحبؒ نے ایک تیز رفتار اونٹنی لی اور اس شخص کی تلاش میں حجاز کی طرف روانہ ہو گئے ۔انہوں نے دوسری منزل میں اس قافلے کوجالیا جس میں وہ شخص شامل تھا۔امام صاحب نے اس سے مل کر اسے بتایا کہ”بھائی جو تھان آپ میری دکان سے خرید کر لائے ہیں اس میں یہ عیب ہے،افسوس کہ ملازم نے آپ کو یہ عیب نہ بتایا اور آپ سے بے عیب تھان کی قیمت وصول کرلی حالانکہ میں نے اسے ہدایت کی تھی کہ خریدار کو اس کا عیب بتاکر اس کی نصف قیمت لینا ۔یہ ملازمیری ہدایت کو بھول گیا تھا اور اپنی غلطی پر سخت شرمندہ ہے ،اس کی غلطی کے لئے میںآپ سے معافی چاہتا ہوں،یہ لیجئے تھان کی نصف قیمت جو اس نے آپ سے زائد وصول کی ۔“خریدار اما م صاحبؒ کی دیانت اور پر ہیز گاری کو دیکھ کر حیران رہ گیا اور بے اختیار اس کے منہ سے نکلا:”اے ابو حنیفہ !خداکی قسم آپ اس امت کی آبرو، قوت اور زندگی ہیں،ہم آپ پر جتنا بھی فخر کریں کم ہے۔“پھر جب اما م صاحب اس سے رخصت ہونے لگے تو اس نے ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا ،دور تک ان کے ساتھ گیا اور بڑی محبت اور بڑے احترام کے ساتھ ان کو الوداع کہا

Ghusal saih kre


دادا جی نے ایک دفعہ بتایا کہ ان کے )یا شاید کسی اور اللہ والے کے( پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ حضرت بہت عرصہ سے میرے سر میں درد کی شکایت ہے۔ ہر قسم کے ٹیسٹ کروا چکا ہوں سب کچھ کلیئر آتا ہے۔ بہت علاج کروایا لیکن کوئ فرق نہیں پڑرہا۔ دادا جی نے اس کے لیے دعا بھی کی اورسر پر لگانے کے لیے تیل بھی دم بھی کیا لیکن کچھ دن بعد وہ پھر اسی مسئلے کے ساتھ دوبارہ آگیا۔ دادا جی کو بہت حیرانی ہوئی کہ کیا وجہ سے کہ کچھ بھی فرق نہیں پڑا۔ داد ا جی نے اس سے چند سوال کیے تو پتہ چلا کہ اسے غسل کا طریقہ ہی نہیں آتا۔ وہ بے چارہ جس طرح غسل کرتا رہا وہ غلط طریقہتھا۔ دادا جی نے اسے غسل کا درست طریقہ سمجھایا اور کہا کہ اللہ سے معافی مانگ کر صحیح طریقے پر غسل کرو۔ جب اس نے ایسا کیا تو اگلے ہی دن سر کا درد ختم ہوگیا۔یہ واقعہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ہم پر آنے والی ہر تکلیف، مصیبت یا پریشانی اللہ کی طرف سے ہمارے لیے آزمائش ہو۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہماراکوئی گناہ، نافرمانی یا لاعلمی میں کیا گیا کوئی ایساکام جس سے اللہ پاک ناراض ہوتے ہوں ہم پر مصیبت آنے کا باعث بنتا ہے اس لیے جب بھی ہم پر کچھ سخت حالات آئیں تو ہم اچھی طرح اپنے اعمال کا جائزہ لیں کہ کہیں کوئی ایسی بات تو نہیں ہورہی جو اللہ کو ناراض کرنے کا باعث بن رہی ہو اگر پتہ چل جائے تو توبہ کریں، پتہ نہ چلے تو اللہ سے دعا کریں کہ یا اللہ میرے جس گناہ کی وجہ سے آپ مجھ سے ناراض ہوئے ہیں میرے اس گناہ کو معاف فرما دیں اور مجھے اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ پھر بھی مصیبت باقی رہی تو اللہ کی طرف سے آزمائش سمجھتے ہوئے صبر شکر کے ساتھ برداشت کریں اور اللہ سے عافیت طلب کرتے رہیں کیونکہ اللہ پاک کسی پر بھی اس کی برداشت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتے۔ بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایسا عمل جسے ہم معمولی سمجھتے ہوئے کررہے ہوتے ہیں درحقیقت وہی ہماری پکڑکا باعث بن جاتا ہے یا لاعلمی میں کی جانے والی کوئی غلطی ہمارے لیے پریشانی لے آتی ہے۔ اس لیے کسی بھی مصیبت کے آنے پر اپنی قسمت کوکوسنے اور شکوہ کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں ضرور جھانک لینا چاہیے کیونکہ اکثر مصیبتیں ہمارے اپنے ہاتھوں کی کمائ ہوتی ہیں